اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ، اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ، وَاذْهَبْ حُزْنِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ۔اس درود کی شرعی حیثیت
سوال
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ، اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ، وَاذْهَبْ حُزْنِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکور یہ درود و دعا موجودہ ترکیب کے ساتھ کسی حدیث یا معتبر روایت میں منقول نہیں، یعنی اس طرح درود شریف کے ساتھ “وَاذْهَبْ حُزْنِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ” کے الفاظ کو جمع کر کے پڑھنے کا ثبوت محدثین کی کتب میں نہیں ملتا۔
البتہ اس کے دونوں حصوں کی الگ الگ شرعی اصل موجود ہے۔
درود شریف کی اصل اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ، اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ،اور ’’غم و اندوہ کے ازالے‘‘ کی دعا “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ”بھی احادیث میں وارد ہے۔
لہٰذا مذکورہ درود و دعا لفظاً تو کسی حدیث میں منقول نہیں، لیکن چونکہ اس کے معنی و مفہوم کی اصل قرآن و سنت میں موجود ہے، اس لیے اگر کوئی شخص ان الفاظ کو بطورِ درود اور دعا پڑھے تو یہ جائز ہے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
عمومی
علوم و فنون
2025-11-06 22:35:12
