شرعی سوال و جواب
صلہ رحمی کا حکم
سوال
اگر کوئی بھی رشتے دار آپ سے دور ہو جائے کسی بھی اختلاف کی وجہ سے کیا ہم ان کی صلاح کے لیے دعا کرسکتے ہیں ؟
جواب
صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے، اور اگر دوری کی کوئی معقول وجہ ہوتو اس کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔
حدیث شریف میں ہے:
“عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ثلاث من كن فيه حاسبه الله حسابا يسيرا وأدخله الجنة برحمته» قالوا: لمن يا رسول الله؟ قال: «تعطي من حرمك، وتعفو عمن ظلمك، وتصل من قطعك» قال: فإذا فعلت ذلك، فما لي يا رسول الله؟ قال: «أن تحاسب حسابا يسيرا ويدخلك الله الجنة برحمته» هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه”.
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ج:۱، صفحہ: ۵۶۳، رقم الحدیث: ۳۹۱۲، ط: دار الكتب العلمية – بيروت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حقوق و آدابِ معاشرت
قطع رحمی و صلہ رحمی
2025-09-27 08:53:01
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
