شرعی سوال و جواب

معتکف کا بھول کر مسجد سے نکل جانا

سوال

مسنون اعتکاف میں بھول کر مسجد سے نکل جانے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

معتکف کاشرعی وطبعی حاجت کے بغیر بھول کرمسجد کے باہر نکلنے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، ایسی صورت میں اس پرایک دن کے اعتکاف کی قضا لازم ہوتی ہے، خواہ رمضان کے بقیہ دنوں میں سے کسی دن میں مغرب تا مغرب قضا اعتکاف کرلے، یا رمضان کے بعد  اگر اعتکاف کی قضا کرے تو  سال کے جن پانچ دنوں (عید الفطر کا دن، عید الاضحیٰ کا دن اور اس کے بعد متصل تین دن، یعنی ایامِ تشریق) کے علاوہ کسی بھی دن مغرب تا مغرب دن کےروزے کے ساتھ قضا کرنا ضروری ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

“(فلو خرج) ولو ناسيا (ساعة) زمانية لا رملية كما مر (بلا عذر فسد) فيقضيه…..”

(کتاب الصوم،باب الاعتکاف،ج2،ص447،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


روزہ
اعتکاف کے آداب و احکام
2025-10-08 07:19:03

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔