شرعی سوال و جواب

بیوی اگر ارتداد سے توبہ کرے تو کیا تجدید نکاح ضروری ہے؟

بیوی اگر ارتداد سے توبہ کرے تو کیا تجدید نکاح ضروری ہے؟


سوال

اگر کسی کی بیوی غیر مسلم مرد کے ساتھ بھاگ جاۓ اور پھر مرتد ہوجاۓ پھردس پندرہ دن بعد پھر مسلمان ہوجاۓاورپہلےشوہرسےملناچاہےتو اب کیا اسکا نکاح باقی ہے؟ 

جواب

عورت کے مرتد ہونے کی وجہ سے نکاح تو برقرار نہیں رہا،  البتہ  دوبارہ اسلام لانے کی صورت میں اپنے سابق مسلمان شوہر ہی سے تجدید نکاح کرنا ضروری ہے ۔

 الدر المختار میں ہے:

” وأفتى مشايخ بلخ بعدم الفرقة بردتها زجرا وتيسيرا لا سيما التي تقع في المكفر ثم تنكر، قال في النهر: والإفتاء بهذا أولى من الإفتاء بما في النوادر لكن قال المصنف: ومن تصفح أحوال نساء زماننا وما يقع منهن من موجبات الردة مكررا في كل يوم لم يتوقف في الإفتاء برواية النوادر.”

(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب النكاح، باب نكاح الكافر (3/ 194)،ط. سعيد)

اور دیکھئے الحیلة الناجزة: غیر مسلموں سے نکاح کے شرعی احکام، حکم ارتداد زوجہ (ص: 194)،ط۔ مکتبہ رضی دیوبند، انڈیا)

فقط والله اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


عمومی
کفر و شرک اور ان کے احکام
2025-10-08 15:16:04

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔