شرعی سوال و جواب
نئے کپڑے پہنا کر کفن پہنانے سے میت کے دوبارہ غسل کا حکم
نئے کپڑے پہنا کر کفن پہنانے سے میت کے دوبارہ غسل کا حکم
سوال
جنازہ ایک دفعہ پاک کر لیا ہو اور اسے کفن نہ دیا جائے بلکہ اسے نئے کپڑے پہنائے جائیں اور کچھ وقت کے بعد کفن پہنايا جائے، اس صورت میں غسل دوبارہ دینا چاہئے یا جنازہ پاک ہی رہتا ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں کفن سے پہلے نئے کپڑے پہنانے سے میت ناپاک نہیں ہوئی لہذا اسے دوبارہ غسل نہ دیا جائے۔ تاہم میت کو نئے کپڑے پہنانے کے بعد کفن پہنانا بلا وجہ اس کی تدفین میں تاخیر ہے جو مناسب نہیں ہے۔
سننِ ترمذی میں ہے:
“عن أبي هريرة : يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال: أسرعوا بالجنازة فإن يكن خيرًا تقدموها إليه وإن يكن شرًّا تضعوه عن رقابكم.”
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جنازے کو جلدی لے جاؤ؛ اس لیے کہ اگر خیر ہو تو تم اسے خیر کی طرف بڑھادوگے، اور اگر وہ شر ہے تو اپنی گردنوں سے اتاردو گے۔
(أبواب الجنائز، باب ما جاء في الإسراع بالجنازة، ج3، ص335، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر)
فتاوی شامی میں ہے:
” ويسرع في جهازه”
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج2، ص193، سعيد)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طہارت
جنابت کے احکام
2025-10-17 16:45:33
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
