شرعی سوال و جواب

حالتِ حیض اور نفاس میں عورت کے لیے امساک کا حکم

حالتِ حیض اور نفاس میں عورت کے لیے امساک کا حکم


سوال

اگر کسی کو رمضان کے قضا روزہ  میں زوال سے پہلے حیض آجائے اوراس کی وجہ سے روزہ  ختم ہو جائے، تو کیا باقی دن کھا پی سکتی ہے؟ یا   امساک  (تشبہ بالصائمین) کرے؟

جواب

جو خاتون رمضان کے روزوں کی قضا کررہی ہو اور اسے روزہ رکھنے کے بعد حیض آجائے تو  اس  کا روزہ فاسد ہوجائے گا، اور اس کے لیے بقیہ وقت میں کھاناپینا جائز ہوگا   اور  امساک لازم نہیں ۔

طحطاوی علی المراقی الفلاح میں ہے:

“وأما في حالة تحقق الحیض و النفاس فیحرم الإمساك؛ لأن الصوم منهما حرام، و التشبه بالحرام حرام”.

(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح لأحمد بن محمد بن إسماعيل الطحطاوي الحنفي (ت ١٢٣١ هـ)،  كتاب الصوم ،‌‌فصل يجب الإمساك،  ص : 678، ط: دار الكتب العلمية بيروت – لبنان  )

فتاوی عالمگیری میں ہے :

“وإذا حاضت المرأة أو نفست أفطرت، کذا في الهدایة”.

(الفتاوی الهندیة، ج:1، ص:228، ط: دارالکتب العلمیة بیروت لبنان)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


روزہ
وہ اعذار جن کی بنا پر افطار کی اجازت ہے
2025-10-08 09:23:51

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔