شرعی سوال و جواب
حاملہ جانور کی قربانی کا حکم
سوال
حاملہ جانورجس کےحمل کاعلم ہو، کیا اس کی قربانی جائز ہے؟
جواب
حاملہ جانور کی قربانی کرنامنع نہیں ہے، البتہ اگر ولادت کا زمانہ قریب ہو تو مکروہ ہے، ذبح کے بعد اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کیا جائے گا اور اس کا کھانا حلال ہوگا اور اگر بچہ مردہ پیدا ہوا یا ذبح سے پہلے ہی مرگیا تو اس کا گوشت کھانا حرام ہے۔
فتاوی سراجیہ میں ہے:
“يكره ذبح الشاة الحامل إذا كانت مشرفةً على الولادة.”
(کتاب الأضاحی،ج:1،ص:90،ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
“شاة أو بقرة أشرفت على الولادة، قالوا: يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد.”
(كتاب الذبائح،ج:5،ص:287،ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
قربانی
قربانی کے مکروہات
2025-10-08 06:42:27
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
