سوال

کیا ہم خواجہ سرا کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

اگر خواجہ سرا میں مرد کی علامات غالب ہیں  تووہ مرد شمار ہوگا اور  اس کی امامت صحیح ہے اور اگراس  میں زنانہ علامتیں زیادہ ہوں یا مردانہ وزنانہ دونوں علامتیں برابر ہوں(جسے خنثی مشکل کہتے ہیں ) تو اس کا مردوں کے لیے امام بننا صحیح نہیں، البتہ اس کے پیچھے عورتوں کی نماز ہوجائے گی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

“والخنثى البالغ تصح إمامته للأنثى مطلقا فقط لا لرجل ولا لمثله لاحتمال أنوثته وذكورة المقتدي، ويصح اقتداؤه بالرجل لا بمثله، ولا بأنثى مطلقا لاحتمال ذكورته.”

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، جلد:1، صفحہ: 577،، طبع: سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نماز
امام کے اوصاف
2025-09-30 13:58:07

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field