شرعی سوال و جواب

غسل میں کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کی فرض مقدار

غسل میں کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کی فرض مقدار


سوال

غسل کرتے وقت منہ اور ناک میں کتنی بار پانی ڈالنا فرض ہے ؟

جواب

غسل میں صرف ایک بار(منہ بھر کر) کلی کرنا  اور ایک بارناک میں   (نرم ہڈی تک)پانی چڑھانا فرض ہے، باقی تین دفعہ سنت ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(وفرض الغسل) أراد به ما يعم العملي كما مر، وبالغسل المفروض كما في الجوهرة، وظاهره عدم شرطية غسل فمه وأنفه في المسنون كذا البحر، يعني عدم فرضيتها فيه وإلا فهما شرطان في تحصيل السنة (غسل) كل (فمه) ويكفي الشرب عبا لأن المج ليس بشرط في الأصح (وأنفه) حتى ما تحت الدرن”.

(کتاب الطهارة، فرض الغسل، ج:1، ص:151، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
فرائض غسل
2025-09-27 04:40:18

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔