شرعی سوال و جواب
قربانی سے پہلے جانور کے مرنے کی صورت میں کم قیمت جانور لینے کا حکم
قربانی سے پہلے جانور کے مرنے کی صورت میں کم قیمت جانور لینے کا حکم
سوال
قربانی کا جانور ایک لاکھ روپے میں خریدا، لیکن وہ مر گیا۔ اب کیا میں ایک لاکھ سے کم قیمت کا جانور لے سکتا ہوں؟
جواب
اگر صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کے لیے جانور خریدا تھا اور وہ جانور قربانی سے قبل ہی مر گیا، تو ایسی صورت میں اس پر دوسرا جانور قربان کرنا واجب ہے ،چاہے دوسرے جانور کی قیمت پہلے سے کم ہو یا زیادہ۔
اور جو شخص صاحبِ نصاب نہ ہو، اُس پر دوسرا جانور قربان کرنا لازم نہیں، تاہم اگر وہ قربانی کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔
البنايۃ شرح الهدايۃ میں ہے:
“(قالوا: إذا ماتت المشتراة للتضحية على الموسر مكانها أخرى) ش: أي قال المشائخ رحمهم الله: إذا ماتت الشاة المشتراة؛ لأن التضحية على الغني مكان هذه شاة أخرى. (ولا شيء على الفقير) ش: يعني إذا ماتت المشتراة؛ لأنها كانت متعينة وماتت كما ذكرنا.”
(كتاب الأضحية، أوجب على نفسه أضحية بغير عينها فاشترى صحيحة ثم تعيبت، ج :12، ص :43، ط : دار الكتب العلمية)
تبيين الحقائق میں ہے:
“وعلى هذا الأصل إذا ماتت المشتراة للتضحية على الموسر مكانها أخرى، ولا شيء على الفقير.”
(كتاب الأضحية، ج :6، ص :7، ط : دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
قربانی
قربانی کے جانور میں عیب
2025-09-25 23:39:58
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
