شرعی سوال و جواب

مروجہ اسلامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا

سوال

میزان بینک والے کہتے ہیں کہ ہمارا بینک سود سے پاک ہے، اس میں آپ پیسے رکھ کر حلال منافع کماسکتے  ہیں ، کیا یہ درست ہے؟

جواب

مروجہ بینکنگ نظام اسلامی اصولوں کے خلاف ہے، اور ان بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوا کر اس پر نفع حاصل کرنا درست نہیں،  بلکہ سود میں شامل ہے۔لہذادیگر بینکوں کی طرح مروجہ اسلامی بینکوں  میں بھی سیونگ اکاؤنٹ میں رقم انویسمنٹ کرکے اس پر نفع حاصل کرناجائز نہیں ہے۔

 اللہ تعالی کا  ارشادہے:

“وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا.” ﴿البقرة: ٢٧٥﴾

دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:

“فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ.” ﴿البقرة: ٢٧٩﴾

سنن  ابن  ماجہ میں ہے:

“عن عبد الله بن مسعود: أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – لعن آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه.”

 (کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، ج: 2 ص: 764 ط: دار الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے:

“(قوله: كل قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر.”

 (کتاب البیوع،فصل فی القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج : 5، ص : 166 ،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


معاملات
اسلامی بینکاری
2025-09-27 14:42:26

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔