شرعی سوال و جواب

منگنی اور نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے بیوی سے بات کرنے اوراسے ہاتھ لگانے کا حکم

منگنی اور نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے بیوی سے بات کرنے اوراسے ہاتھ لگانے کا حکم


سوال

منگنی کے بعد اپنی  ہونے والی بیوی سے بات چیت کرنے یا ہاتھ لگانے کی اجازت ہے   جب کہ  نکاح بھی ہو چکا ہو؟

جواب

باقاعدہ  شرعی  طورپر نکاح  منعقد ہوجانے کے  بعد اپنی منکوحہ سے ملنا، اس سے  مطلقاً باتیں کرنا اوراسے ہاتھ  لگانا جائز ہے۔  البتہ اگر رخصتی سے پہلے یہ امور معاشرتی طور پر برے سمجھے جاتے ہوں تو ان سے اجتناب کرنا چاہیے، بسااوقات یہ بڑے فساد کاذریعہ بن جاتے ہیں ،اور اگر صرف منگنی ہوئی ہو اورنکاح  نہ ہواہوتومنگنی کرنے کے بعد  منگیتر  بھی دیگر اجنبی لڑکیوں کی طرح نامحرم ہوتی ہے ، اور نامحرم لڑکی سے  تعلقات رکھنا، ملنا جلنا،ہاتھ لگانا اور ہنسی مذاق   یا بغیر ضرورت بات چیت  کرنا جائز نہیں  ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

” (هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي”.

(كتاب النكاح،3/ 3،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نکاح
منگنی کی شرعی حیثیت
2025-10-17 20:15:30

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔