شرعی سوال و جواب

میت کا جسم ختم ہوچکا ہو تو نماز جنازہ کا حکم

سوال

 میرا سوال یہ ہے کہ ایک میت کافی دن تلاش کے بعد جنگل سے ملی، جس کے جسم کا کافی حصہ ختم ہو چکا تھا تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھ  سکتے ہیں؟ کس کس صورت میں نماز جنازہ پڑھائی جاسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر لاش کا اکثر حصہ باقی ہو تو اس کو غسل  دے کر نمازِ  جنازہ پڑھی جائے اور اگر اکثر حصہ  ختم ہوگیا ہو اور کم حصہ باقی ہو تو غسل اور نمازِ جنازہ، دونوں لازم نہیں ہیں۔

در مختار میں ہے :

“(وجد رأس آدمي) أو أحد شقيه (لا يغسل ولا يصلى عليه) بل يدفن إلا أن يوجد أكثر من نصفه ولو بلا رأس.”

( فتاوی شامی ،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2،ص:199،سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


جنائز
جنازہ اور نماز جنازہ کے احکام (فرائض، سنن، مستحبات، مکروہات)
2025-10-08 12:03:33

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔