شرعی سوال و جواب
نانی کا اپنے نواسے کا عقیقہ کرنا
سوال
کیا نانی اپنے نواسے کے لیے عقیقہ کر سکتی ہے؟
جواب
عقیقہ اصل میں والد کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی اولاد کی جانب سےپیدائش کےساتویں دن عقیقہ کرے،البتہ(والد کی عدم موجودگی میں) والد کے علاوہ اگر کوئی اور نانی وغیرہ بھی اپنے نواسے کا عقیقہ کرلےیا بچے کے والد کی اجازت سے نانی اپنے نواسہ کے لیے عقیقہ کرلے تو عقیقہ ادا ہوجائے گا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:
“يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهبًا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي.”
(کتاب الاضحیۃ،ج6،ص336،ط؛سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
قربانی
عقیقہ کا حکم، شرائط، سنن و آداب
2025-09-27 08:38:48
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
