شرعی سوال و جواب
وعدہ توڑنے پر کفارہ کا حکم
سوال
اگر صرف وعدہ کیا ہو قسم نہ کھائے تب وعدہ توڑنے کا کفارہ ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص کسی عذرِ شرعی کے بغیروعدہ توڑدے تو وعدہ توڑنے کی وجہ سے کفارہ تو نہیں ہوگاالبتہ وعدہ خلافی کی وجہ سے وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے گناہ گار ہوگا،جس پر توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
“عن زيد بن أرقم – رضي الله عنه – عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” «إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي له، فلم يف ولم يجئ للميعاد، فلا إثم عليه» ” رواه أبو داود، والترمذي.
(فلم يف) أي: بعذر (ولم يجئ للميعاد) أي: لمانع (فلا إثم عليه) . قال الأشرف: هذا دليل على أن النية الصالحة يثاب الرجل عليها وإن لم يقترن معها المنوي وتخلف عنها. اهـ. ومفهومه أن من وعد وليس من نيته أن يفي، فعليه الإثم… فإنه من أخلاق المنافقين.”
( كتاب الآداب، باب الوعد، ج:7، ص:3069، ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
گناہوں کی حدود، صورتیں اور اقسام
2025-09-27 11:45:08
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
