شرعی سوال و جواب
گناہ ہوجانے پر دس ہزار رقم صدقہ کرنے کی نذر ماننے کا حکم
گناہ ہوجانے پر دس ہزار رقم صدقہ کرنے کی نذر ماننے کا حکم
سوال
اگر کوئی شخص ایک بڑا گناہ نہ کرنے کا عزم کرے،اور یہ نذر مانےاگر مجھ سےدوبارہ یہ گناہ ہوجاۓ تو میں دس ہزارروپے دوں گا، تو اگر دوبارہ اس شخص سے وہ گناہ صادر ہوجاۓتو کیا پھر دس ہزارروپے دینا لازمی ہوگا یا نہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب
سوال میں ذکر کردہ صورت سے نذر منعقد ہوگئی ہے، لہذا مذکورہ الفاظ “اگر مجھ سے دوبارہ یہ کام ہوا، تو میں دس ہزار روپے دوں گا ” کہنے کے بعد گناہ ہوجانے سے دس ہزار روپے دینا لازم ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
“(ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعاً للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر)؛ لحديث: «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم … الخ”.
(کتاب الایمان، مطلب فی احکام النذر، ج:3، ص:735، ط:ایج ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اَیمان و نذور
نذر کے الفاظ، حکم اور شرائط
2025-10-17 18:32:13
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
