شرعی سوال و جواب

اجنبی شادی شدہ مرد و عورت کی باہمی محبت کا حکم

اجنبی شادی شدہ مرد و عورت کی باہمی محبت کا حکم


سوال

اگر کسی شادی شدہ مرد کو کسی شادی شدہ عورت سے عشق ہو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب

 اجنبی مرد و عورت کا آپس میں  تعلق رکھنا  اور ایک دوسرے سے محبت کرنا سخت گناہ اور حرام  ہے  اور شادی شدہ  ہو کر یہ کام کرنا اور بھی زیادہ قبیح  ہے  ۔

ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے اس فعل شنیع پر توبہ و استغفار کی کثرت کرے اور اپنے ماحول کوتبدیل کرے، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے،  روزانہ دو رکعت نفل توبہ  کی نیت سےپڑھے، اور اس کے بعد یہ دعا سات مرتبہ مانگے:

“اَللّٰهُمَّ  إِنِّیْ أَسْأَلُكَ الْھُدىٰ وَالتُّقىٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنىٰ”. ( مسلم :رقم ۲۷۲۱)

صحیح مسلم میں ہے:

“عن ‌أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” كتب على ابن آدم ‌نصيبه ‌من ‌الزنا مدرك ذلك لا محالة، فالعينان زناهما النظر، والأذنان زناهما الاستماع، واللسان زناه الكلام.”

(كتاب القدر، باب قدر على إبن آدم حظه من الزنا وغيره، ج:8، ص:52، ط:دارالطباعة العامرة تركيا)

فتاوی شامی میں ہے:

“وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا يكلم الأجنبية ‌إلا ‌عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى.”

(كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في النظر والمس، ج:6، ص:369، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
اجنبی عورتوں سے تنہائی، میل جول / مس کرنا
2025-09-30 13:51:55

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔