شرعی سوال و جواب
احناف کے مصادرِ شریعت کی تفصیل
سوال
شریعت کے آٹھ مآخذ کے بارے میں معلومات فراہم کریں ، تفصیل اور دلیل کے ساتھ جواب ارسال کریں؟
جواب
واضح رہےکہ شریعت یا فقہِ اسلامی کے بنیادی ماٰخذ تو چار ہی ہیں یعنی جن مصادرِ شریعت کو تمام فقہاء بالاتفاق حجت مانتے ہیں ،ان میں پہلادرجہ کلام اللہ کا ہے،دوسرا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا،تیسرا اجماع اور چوتھا قیاس کا ہے،ان چار کے علاوہ چند ماٰخذ اور بھی ہیں کہ جن سےبنیادی ماٰخذ کی عدم موجودگی میں استدلال کیا جاتا ہے،البتہ ان کی حجیت میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے، ان مصادر کو ثانوی یا ذیلی ماٰخذ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ان ذیلی ماٰخذ میں استحسان،مصالحِ مرسلہ،عرف،سدِ ذرائع،شرائع من قبلنا،قول صحابی رضی اللہ عنہ اور استصحاب حال شامل ہے،احناف رحمہم اللہ ان میں سےصرف استحسان ،عرف،شرائع من قلنا،قول صحابی رضی اللہ عنہ اور استصحاب حال سے استدلال کرتے ہیں،اور اگر قولِ صحابی کو سنت کے ذیل میں خبرِواحد کے تحت رکھیں تو احناف کے ہاں اس طرح فقہِ اسلامی کے کُل آٹھ ماٰخذ ہوتے ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے مفتی سعید احمدپالنپوریؒ کی کتاب ’’مبادئ الأصول‘‘اور’’آسان اصولِ فقہ‘‘،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی کتاب’’ آسان اصولِ فقہ‘‘،اور مولانامحمد نعمان صاحب کی کتاب ’’فقہ اسلامی کے ذیلی ماٰخذ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں، ان شاء اللہ مفید رہے گا۔
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
علوم و فنون
مآخذ فقہ اور ادلۂ احکام
2025-10-12 16:20:42
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
