شرعی سوال و جواب

اشتلفہ نام رکھنے کا حکم

سوال

میں نے اپنے بیٹی کا نام الطاف شاہ نور رکھا ہے، اب کسی نے  بتایا کہ یہ لفظ الطاف شاہ نہیں بلکہ اشتلفہ ہے ، مہربانی فرما کے درست نام اور اس کا معنی بتادیں۔

جواب

الطاف شاہ تو لڑکےکانام ہے،اوراشتلفہ کے معنی کسی مستند لغت میں تلاش کرنے سے نہیں ملے،لہذا بچی کا نام ’’الطاف شاہ‘‘یا’’اشتلفہ‘‘رکھنے  کے بجائےصحابیات مکرمات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا نام  یا کسی نیک صالحہ خاتون کے نام پر رکھنازیادہ بہتر اور افضل ہے، یہ باعث ِ برکت بھی ہوگا۔

اسلامی نامو ں کے لیے ہماری ویب سائٹ کالنک ملاحظہ ہو:

اسلامی نام

مارواه الإمام أبو داود:

“عن أبي الدرداء رضي اللّٰہ عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم: إنکم تدعون یوم القیامة بأسماء کم وأسماء آباء کم فأحسنوا أسماء کم.”

(باب في تغییر الأسماء، ج:4، ص:442، ط:دار الکتاب العربي بیروت)

ترجمہ:”حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تم اپنے اوراپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤگے لہٰذا اچھے نام رکھاکرو۔”

وفي الفتاوی الهندیة:

“وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.”

(کتاب الکراهیة، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة، ج:5، ص:362، ط: دار الفکر بيروت)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-10-08 10:44:05

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔