شرعی سوال و جواب

اقصی نام رکھنے کا حکم

سوال

 میں اپنی بیٹی کا نام اقصی رکھنا چاہتا ہوں، کیا یہ نام رکھنا صحیح ہے؟

جواب

’’اقصیٰ‘‘ کے معنی بعد ، دوری اور انتہا کے  ہیں، یہ نام رکھنے کی گنجائش ہے۔

تاج العروس میں ہے:

’’ وَهُوَ بالمَكانِ {الأقْصَى: أَي الأبْعَدُ. ويُرَدُّ عَلَيْهِ} أَقْصاهُم: أَي أَبْعَدُهم. والمَسْجِدُ {الأقْصَى: مَسْجِدُ ببيتِ المَقْدسِ، يُكْتَبُ بالألِفِ.‘‘

(قصو ، ج: 39، ص: 309، ط: دار الهداية)

لسان العرب میں ہے:

’’ قصا: قَصا عَنْهُ قَصْواً وقُصُوًّا وقَصاً وقَصاء وقَصِيَ: بَعُدَ. وقَصا المَكانُ يَقْصُو قُصُوّاً: بَعُدَ. والقَصِيُّ والقَاصِي: الْبَعِيدُ.‘‘

(فصل القاف ، ج: 15، ص: 183، ط: دار صادر۔بيروت)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-27 17:25:59

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔