شرعی سوال و جواب

اللہ تعالیٰ کے لیے رسوائی کا لفظ استعمال کرنے کا حکم

اللہ تعالیٰ کے لیے رسوائی کا لفظ استعمال کرنے کا حکم


سوال

ایک مشہور شاعر نے اپنے نظم میں ایک لفظ استعمال کیا ہے کیا اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا کیسا ہے؟ وہ یہ ہے ساری دنیا ہی تماشائی ہے میرے مولا جو تیرے نام پہ لڑتے ہیں اگر ہارے تو اس میں تیری بھی تو رسوائی ہے میرےمولا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  شاعر کا اس طرح “اگر ہارے تو اس میں تیری بھی تو رسوائی ہے میرےمولا” للہ تعالی کے  لیے “رسوائی ” کا لفظ ا استعمال کرنا جائز  نہیں ہے،اسی طرح کے الفاظ کے استعمال اور آگے نقل کرنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔فقط وللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


ایمان و عقائد
ذات و صفات و اسماء باری تعالیٰ
2025-09-27 14:08:02

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔