شرعی سوال و جواب
اللہ نے کوئی ایسا راستہ نہیں بنایا جس کی واپسی نہ ہو سے طلاق کا حکم
اللہ نے کوئی ایسا راستہ نہیں بنایا جس کی واپسی نہ ہو سے طلاق کا حکم
سوال
میرے شوہر سے ایک بحث کے دوران میں نے کہا: “آپ تو اب میرے ساتھ پھنس گئے ہیں” تو انہوں نے جواباًً کہا: “اللہ نے کوئی ایسا راستہ نہیں بنایا جس کی واپسی نہ ہو” میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کے الفاظ سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کےشوہر کے الفاظ “اللہ نے کوئی ایسا راستہ نہیں بنایا جس کی واپسی نہ ہو” طلاق کے الفاظ نہیں ہیں اورنہ ہی طلا ق کا احتمال رکھتےہیں، بلکہ ایک عمومی بات ہے،لہٰذا ان الفاظ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
“اتفق الفقهاء على أن الصريح في الطلاق هو ما لم يستعمل إلا فيه غالبا، لغة أو عرفا۔۔۔۔۔كما اتفقوا على أن الكنائي في الطلاق هو ما لم يوضع اللفظ له، واحتمله وغيره، فإذا لم يحتمله أصلا لم يكن كناية، وكان لغوا لم يقع به شيء.”
(حرف الطاء، طلاق، أنواع الطلاق، أولا الصريح والكنائي، ج: 29، ص: 26، ط: دار الصفوة مصر)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
طلاق صریح اور کنائی
2025-09-25 23:29:09
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
