شرعی سوال و جواب

انسان کو جس حالت میں موت آئے گی اسی حالت میں اٹھایا جائے گا

انسان کو جس حالت میں موت آئے گی اسی حالت میں اٹھایا جائے گا


سوال

کیا یہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے راہ نمائی فرمائیں: حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس شخص کی استطاعت میں ہو کہ وہ رات کو پاک صاف ہو کر ذکر و استغفار کرتا ہوا سوئے تو وہ ایسا ہی کرے، کیوں کہ قیامت کے دن روحیں اسی حالت میں اٹھائی جائیں گی جس حالت میں قبض کی گئی تھیں۔

جواب

مذکورہ روایت امام عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مصنف ابن ابی شیبہ میں ذکر کی ہے:

“حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد: قال ‌من ‌استطاع ‌منكم ‌أن ‌يبيت طاهرا على ذكر مستغفرا لذنوبه، فإنه بلغنا أن الأرواح تبعث على ما قبضت عليه.”

(مصنف ابن أبي شيبة، كتاب الطهارة، من كان يقول: نم على طهارة  2/ 252 ط: دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض – السعودية)

نیز   حدیث شریف  میں ہے کہ ہربندہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائےگا جس حالت میں اس کو موت آئی تھی،یعنی انسان کو خیر کی حالت میں موت آئے تو خیر کی حالت میں اٹھایا جائے گا ، اور اگر شر کی حالت میں موت آئے تو شر کی حالت میں اٹھا یا جائے  گا۔

صحیح مسلم میں ہے :

“عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «‌يُبْعَثُ ‌كُلُّ ‌عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ»”.

(کتاب الجنة وصفة ونعیمھا واھلھا،2174/4،مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة)

فیض القدیر شرح الجامع الصغیر میں ہے :

“‌(يبعث ‌كل ‌عبد على ما مات عليه) أي على الحال التي مات عليها من خير وشر”.

(حرف الباء ،457/6،المكتبة التجارية الكبرى)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


علوم و فنون
حدیث کا معنی، مفہوم اور اقسام
2025-09-27 16:19:34

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔