شرعی سوال و جواب
انشراح نام رکھنے کا حکم
سوال
اکثر لوگ بچی کا نام “انشراح” رکھتے ہیں ، درست ہے ؟
جواب
اِنشِرَاح نام کا معنیٰ ہے:کشادہ ہونا/ واضح ہونا۔ (القاموس الوحید، المادّۃ: ش/ر/ح، ص:853، ط:ادارۃ الاسلامیات)
معنیٰ کے اعتبار سے بچی کا نام انشراح رکھنے میں حرج نہیں ہے، تاہم مذکورہ نام کے بجائے صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھنا بہتر ہے، جامعہ کے ویب سائٹ پر اسلامی نام کے عنوان سے ایپلیکیشن موجود ہے جس میں آپ اپنی مرضی کے نام کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية) میں ہے:
“وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.”
(کتاب الکراهیة،الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد ، ج:5، ص:362، ط:مکتبه رشیدیه)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-27 17:31:32
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
