شرعی سوال و جواب
اگر تم نے اچھی طرح کھانا پینا نہ کیا تو طلاق کہنے کا حکم
اگر تم نے اچھی طرح کھانا پینا نہ کیا تو طلاق کہنے کا حکم
سوال
شوہر نے کہا تم نے اگر اچھی طرح کھانا پینا نہ کیا تو تم کو طلاق اب میرا سوال یہ ہے کہ اچھی طرح کھانے پینے کا معیار کیا ہوگا؟
جواب
صورت مسئولہ میں اچھی طرح کھانے پینے کا معیار شوہر کی نیت پر موقوف ہے ،شوہر کی مذکورہ جملہ سے جو مراد ہے اگر بیوی اسی طرح کھانا پینا کرے گی تو اس سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، اگر اس کے خلاف کھانا پینا کریگی تو ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے :
“الأصل أن الأيمان مبنية عند الشافعي على الحقيقة اللغوية، وعند مالك على الاستعمال القرآني، وعند أحمد على النية، وعندنا على العرف ما لم ينو ما يحتمله اللفظ فلا حنث في لا يهدم إلا بالنية فتح
مطلب الأيمان مبنية على العرف بيتا ببيت العنكبوت
(قوله وعندنا على العرف) لأن المتكلم إنما يتكلم بالكلام العرفي أعني الألفاظ التي يراد بها معانيها التي وضعت لها في العرف كما أن العربي حال كونه بين أهل اللغة إنما يتكلم بالحقائق اللغوية فوجب صرف ألفاظ المتكلم إلى ما عهد أنه المراد بها فتح.”
(کتاب الأیمان ،ج:۳،ص:۷۴۳،سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
طلاق کی یمین
2025-11-11 21:48:15
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
