شرعی سوال و جواب

ایڈوانس رقم کی فقہی حیثیت/ اس سے کاروبار کرنے اور حاصل ہونے والے نفع کا حکم

ایڈوانس رقم کی فقہی حیثیت/ اس سے کاروبار کرنے اور حاصل ہونے والے نفع کا حکم


سوال

کرایہ داری کے معاملہ میں جو رقم بطور ایڈوانس لی جاتی ہے ، اس کا کیا حکم ہے؟

نیز فقہی طور پر اس کی کیا حیثیت ہے؟

اور اس کو استعمال میں لانا اور کاروبار وغیرہ میں لگا کر نفع کمانا کیسا ہے؟

نیز کرایہ دار سے کرایہ کا معاملہ ختم ہوجائے اور وہ کرایہ کی جگہ خالی کررہا ہو تو اس کو مذکورہ ایڈوانس کی رقم واپس کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟

اور اگر اس رقم کو کاروبار میں لگا کر نفع کمایا گیا ہو،تو   کیا یہ نفع بھی  کرایہ دار کو واپس  کرنا ہوگا؟

جواب

 کرایہ دار سے سیکورٹی کے طورپرکچھ رقم(ایڈوانس) وصول کرنادرست ہے، یہ  رقم  مالک کے پاس  ابتداً  امانت اور عرفاً کرایہ دار کی طرف سے استعمال کی اجازت ہونے کی وجہ سے قرض ہوتی ہے،لہذا اس پر قرض والے احکام لاگو ہوں گے :

اس کو کاروبار میں لگانا اور اس سے نفع کمانا درست ہوگا،نفع  مالکِ  مکان کا  ہوگا نہ کہ کرایہ دار کا ،البتہ دکان چھوڑتے وقت یہ رقم کرایہ دارکوواپس لوٹانالازم ہے۔

شرح المجلۃ لرستم باز میں ہے:

“الأمانة غير مضمونة فإذا هلكت أو ضاعت بلا صنع الأمين ولا تقصيره فلا يلزمه الضمان … أمّا إذا هلكت بتعدّي الأمين أو تقصيره فإنه يضمن … إذا هلك مال شخص عند آخر فإن كان أخذه بدون إذن المالك يضمنه على كل حال وإن كان أخذه بإذن صاحبه لا يضمن؛ لأنه أمانة في يده مالم يكن أخذه بصورة سوم الشراء وسمّي الثمن فهلك المال؛ لأنه حينئذٍ يلزمه الضمان.”

(شرح المجلة لرستم باز، الكتاب السادس في الأمانات ،الباب الأول ، ج: 1، ص: 338+ 339، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


معاملات
بیعانہ / ایڈوانس / ٹوکن منی کا بیان
2025-10-12 16:05:52

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔