شرعی سوال و جواب

ایک طلاق کے بعد عورت کے لیے عدت کا حکم

سوال

اگر عورت کو  ایک طلاق دی جائے، تو  کیا وہ عدت گزارے گی ؟

جواب

 واضح رہے کہ  شوہر اگر  اپنی بیوی کو طلاق دے تو بیوی  پر عدت لازم ہوجاتی ہے، خواہ ایک طلاق دی ہو یا دو یا تین، لہذا ایک طلاق کے بعد بھی عدت واجب ہوگی ،جس کی تفصیل یہ ہے کہ مطلقہ اگر حاملہ نہ ہو، اور اسے حیض آتا ہو تو عدت تین  مکمل ماہواریاں  گزرنا ہے، اور اگر کم عمری یا بڑھاپے کی وجہ سے ایام نہ آتے ہوں تو عدت تین ماہ ہوگی، اور حاملہ ہو تو عدت  بچہ جننے تک ہوگی۔

محیط برہانی میں ہے:

“والشهور تدل على الحيض فيمن لا تحيض لصغر أو كبر أو فقد حيض. يعني به: الآيسة. والحرة تعتد بثلاث حيض وثلاثة أشهر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفي الحامل عدتهما أن تضع حملها، الحرة والأمة والمطلقة والمتوفى عنها زوجها في ذلك سواء.”

(كتاب الطلاق، الفصل السادس والعشرون۔۔۔۔۔، ج:3، ص:458، ط:دار الكتب العلمية۔بيروت)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
عدتِ طلاق
2025-09-27 16:15:04

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔