شرعی سوال و جواب

ای ایف یو لائف انشورنس کا حکم

سوال

ای ایف یو لائف انشورنس کا کیا حکم ہے؟

جواب

کسی بھی قسم کی  بیمہ (انشورنس) پالیسی  سود اور قمار (جوا) کا مرکب  ومجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے،لہذا  ای ایف یو انشورنس کی پالیسی لینا جائز نہیں ہے۔

صحیح مسلم  میں ہے:

“عن ‌جابر قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء»”.

(كتاب المساقاة والمزارعة، باب الربا، ج:2، ص:27، ط:قديمي)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

“عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر.”

(كتاب البيوع والاقضية، ج:4، ص:483، ط: مکتبة الرشد)

فتاوی شامی میں ہے:

“وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.”

(كتاب الحظر والاباحة، ج:6، ص:403،  ط: سعید)

فقط واللہ اعلم  


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


بیوع
انشورنس اور تکافل کا حکم
2025-09-27 16:06:30

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔