شرعی سوال و جواب

بائنینس (binance)نامی ایپ کے استعمال کرنے اور ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے تبدیل کرنے کا حکم

بائنینس (binance)نامی ایپ کے استعمال کرنے اور ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے تبدیل کرنے کا حکم


سوال

binance(بائنینس) کے استعمال کاکیاحکم ہے اوراس میں رقم رکھنا کیساہے؟ جب کہ binance(بائنینس) میں ایک ملک کي کرنسی کو دوسرے ملک کي کرنسی سے تبدیل کرتے ہیں اورپھراس میں رقم رکھناتاکہ وہ مہنگاہوکر پھر بھیج دیاجائے۔

  اس ایپ میں یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنےبینک کی ایپ کے ذریعہ US dollars DT خریدتے ہیں، جو کہ ایک ورچول کرنسی (virtual currency) ہے اور پھر اس کے ذریعہ آپ تمام کرپٹو کرنسیز خرید سکتے ہیں، ان کرپٹو کرنسیز میں بہت زیادہ نفع بھی ہوسکتا ہے اور نقصان بھی، اور جب یہ کرنسیز فروخت کی جاتی ہیں تو یہ براہِ  راست آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجاتی ہیں US dollars DT کی شکل میں۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں بائنینس (binance) نامی ایپ استعمال کرکے اس میں کاروبارکرناجائز نہیں ہے ،کیوں کہ مذکورہ بائنینس   مروجہ ڈیجیٹل کرنسی کی ایک قسم ہے،اورمروجہ ڈیجیٹل کرنسی سے کسی قسم کی خریدوفروخت شرعاً جائزنہیں ہے۔

البتہ ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سےتبدیل کر کے قبضہ میں لے کر رکھنا اور پھر اس کے ریٹ مہنگے ہوجانے کے بعد اسے بیچ کر نفع کمانا حلال ہے،البتہ چوں کہ کرنسی کے بدلے کرنسی لینے کی حیثیت بیع صرف کی ہے اس لیے اس طرح کی بیع میں ادھار جائز نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ سودا نقد کیا جائے اور مجلس عقد میں ہی ہاتھ کے ہاتھ ہی جانبین سے بدلین پر قبضہ بھی ہوجائے ،اگرمجلس عقد میں جانبین سے بدلین پرقبضہ نہ کیاگیاتوایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے تبدیل کرناشرعاً جائزنہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے: 

” (هو) لغةً: الزيادة. وشرعاً: (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنساً بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة، (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزناً، (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق)، وهو شرط بقائه صحيحاً على الصحيح، (إن اتحد جنساً وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) ؛ لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء، (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافاً أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح).”

(كتاب الصرف ج : 5 ص : 257 ط : سعيد)

“تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا” میں ہے:

“بٹ کوائن‘‘ محض ایک فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں، لہٰذا موجودہ زمانے میں ’’کوئن‘‘ یا ’’ڈیجیٹل کرنسی‘‘ یا ’’کرپٹو کرنسی‘‘ کی خرید و فروخت کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے ’’بٹ کوائن‘‘ یا کسی بھی ’’ڈیجیٹل کرنسی‘‘ کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔”

( تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا،ج: 2،ص: 92، ط:مکتبہ عمار کراچی)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


عمومی
بیع فاسد و باطل
2025-10-17 16:14:11

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔