شرعی سوال و جواب
بالٹی میں دو انگلی ڈالنے سے پانی کے مستعمل ہونے کا حکم
بالٹی میں دو انگلی ڈالنے سے پانی کے مستعمل ہونے کا حکم
سوال
اگر علم کی کمی کے باعث یا بھول کر ماء مستعمل (بالٹی کے پانی میں دو انگلیاں ڈبو ئیں پھر اسی پانی )سے غسل کر لیا تو کیا پاکی حاصل ہوگئی؟
جواب
صورت ِ مسئولہ میں بالٹی کے پانی میں دو انگلیاں ڈبونے سے پانی مستعمل نہیں ہوگا؛ لہذا اس پانی سے غسل کرنا درست ہے۔
ملحوظ رہے کہ اگر انگلی یا ہاتھ پر نجاستِ حقیقہ لگی ہو تو اسے بالٹی میں ڈالنے سے بالٹی کا پانی ناپاک ہوجائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
“و يشترط إدخال عضو تام لصيرورة الماء مستعملًا في الرواية المعروفة عن أبي يوسف – رحمه الله – كذا في المحيط. و بإدخال الأصبع أو الأصبعين لايصير مستعملًا و بإدخال الكفّ يصير مستعملًا. كذا في الظهيرية”.
(کتاب الطہارہ،الباب الثالث فی المیاہ،ج:1،ص:22،دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طہارت
ماء مستعمل
2025-09-30 17:59:14
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
