شرعی سوال و جواب
بلڈنگ مینٹننس میں ایک فلیٹ والے کا گھر بندہونے کے وجہ سے مینٹننس نہ دینے کا حکم
بلڈنگ مینٹننس میں ایک فلیٹ والے کا گھر بندہونے کے وجہ سے مینٹننس نہ دینے کا حکم
سوال
بلڈنگ میں مینٹینس ہر فلیٹ والے سے لیا جاتا ہے، لیکن ایک فلیٹ اس میں کوئی رہتا ہی نہ ہو، بلکہ فلیٹ بند پڑا ہو، تو اس کے مالک کا یہ کہنا کہ جب میں کوئی سہولت سے فائدہ ہی نہیں اُٹھاتا تو میں مینٹینس بھی نہیں دوں گا، تو آیا وہ مینٹینس نہ دینے میں حق بجانب ہے؟ دوسری طرف بلڈنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ مینٹینس سب فلیٹ والوں سے لیا جاتا ہے ،چاہے گھر کھلا ہو یا بند اس لیے دینا ہوگا، آیا اس صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ بلڈنگ کمیٹی کا یہ دستور اورطریقہ کار ہے کہ تمام فلیٹ والوں سے مینٹننس لیاجاتاہے چاہے گھر کھلاہو یا بند ہو،تو ایسی صورت میں تما م فلیٹ والوں پر لازم ہے کہ مینٹننس ادا کرے ،چاہے گھر بند ہو یا کھلا ہو،لہذا مذکورہ فلیٹ والے کا یہ کہنا کہ “جب میں کوئی سہولت سے فائدہ ہی نہیں اُٹھاتا تو میں مینٹینس بھی نہیں دوں گا” شرعاًدرست نہیں ۔
قرآن کریم میں ہے:
“وَأَوْفُوْا بِٱلْعَهْدِۖ إِنَّ ٱلْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا.”[سورة الإسراء: 43]
صحيح مسلم میں ہے:
“عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مطل الغني ظلم، وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع.”
(باب تحريم مطل الغني، وصحة الحوالة، واستحباب قبولها إذا أحيل على ملي:3/1197،ط:دار احیاء التراث العربی)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حقوق و آدابِ معاشرت
شہری اور ملکی حقوق
2025-10-17 22:21:22
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
