شرعی سوال و جواب
بچی کے لیے حمدا نام رکھنا
سوال
میں نے اپنی بچی کا نام “حمدا” رکھا ہے ، کیا یہ نام رکھنا جائز ہے؟
جواب
“حمدا” کا معنی ہے: “تعریف کرنا”، یہ نام رکھنا جائز ہے۔
الصحاح تاج اللغۃ وصحاح العربیۃ میں ہے:
“[حمد] الحمد: نقيض الذم. تقول: حمدت الرجل أحمده حمدا ومحمدة، فهو حميد ومحمود.”
(حرف الدال، فصل الحاء، 466/2، ط: دار العلم للملايين)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-10-17 15:56:17
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
