شرعی سوال و جواب

بہنوئی ہم جنس پرست تھا پھر اس کی توبہ کے بعد خلع کے مطالبے کی تفصیل

بہنوئی ہم جنس پرست تھا پھر اس کی توبہ کے بعد خلع کے مطالبے کی تفصیل


سوال

 چند ماہ پہلےمیری بہن کی شادی ہوئی ہے، اب ہمیں علم ہوا کہ اس کا شوہر ایک ہم جنس پرست تھا،  مردوں کے ساتھ اس کے ناجائز تعلقات رہ چکے ہیں ، ہم نے اس سے بات کی تو اس نے کہا کہ وہ اب توبہ تائب ہو  چکا ہے اور اب ایسا کوئی کام نہیں کرتا۔اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں کہ آیا میری بہن کا اس کے ساتھ ازدواجی تعلق میں رہنا ٹھیک ہے یا نہیں اور  علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے ؟ اور اگر ٹھیک ہے تو کیا اسکے شوہر کو کوئی کفارہ ادا کرنا چاہیے جبکہ وہ سچے دل سے توبہ کر چکا ہو؟

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کی بہن کا آپ کے بہنوئی کے عقد میں رہنا جائز ہے، بالخصوص جب کہ اس نے اپنے عملِ بد سے توبہ بھی کر لی ہے۔سچی توبہ سے سابقہ گناہ اللہ تعالی معاف فرما دیتے ہیں۔ توبہ کے علاوہ اس قبیح فعل کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔  البتہ اگر زیرِ نظر مسئلہ میں سائل کی بہن کو خوانخواستہ اپنے شوہر کے بارے میں یہ محسوس ہو کہ وہ دوبارہ اس فعل میں مبتلا ہوگیا ہے تو ایسی صورت میں حکم معلوم کرنے کے لیے دار الافتاء دوبارہ رجوع کیا جاسکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

“…أن التوبة مكفرة بنفسها وهي إنما تسقط حق الله تعالى…”

(كتاب الحج، باب الهدي، ج2، ص623، سعيد)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
خلع کا ثبوت، حکمت اور اسباب
2025-10-17 18:48:45

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔