شرعی سوال و جواب
بیوہ نے دوسری جگہ شادی کرلی تو بھی دیت میں اس کا حصہ ہوگا
بیوہ نے دوسری جگہ شادی کرلی تو بھی دیت میں اس کا حصہ ہوگا
سوال
ایک عورت کا شوہر قتل ہوا، عدت پوری کرنے کے بعد اس نے بشرع محمدی دوسری شادی کرلی، کچھ عرصہ بعد قتل کے مقدمے میں صلح ہوگئی، کیا یہ عورت دیت میں حصے کی حقدار ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔
جواب
صورت ِ مسئولہ میں دیت کی رقم میں بیوہ کا شرعی حق(آٹھواں حصہ اگر مرحوم شوہر کی اولاد ہو ،وگرنہ چوتھائی حصہ ) ہے ،اگر چہ بیوہ نے دوسری جگہ شادی کرلی ہے ۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
“ثمّ دية المقتول تكون ميراثًا عنه لجميع ورثته كسائر أمواله عندنا.”
(كتاب الفرائض، باب ميراث القاتل،ج: 30، ص:49، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فرائض
مختلف فنڈز میں میراث کا اجراء
2025-09-27 13:07:24
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
