شرعی سوال و جواب
بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر طلاق دینے کا حکم
سوال
بندہ وسوسے کا مریض ہےاور جب وساوس کی کثرت ہوتی ہے تو بندہ اپنے آپ سے کہتاہے زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی، اب یہی جملہ کہتے وقت بندہ کی نیت تھی زید ایک فرضی نام ہے، نہ تو یہ بندے کا عرفی نام ہے اور نہ اس نام سے بندہ کا کوئی تعلق ہے ،بندہ کا اصل نام بکر ہے، اب بندہ نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں کیا اس سے بندہ کے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کا یہ کہنا کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور زید فرضی نام ہے تو ا سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہو گی لیکن اس قسم کے جملوں سے احتراز ضروری ہے، سائل کثرت سے “لا حول و لا قوة الا بالله” پڑھتا رہے تاکہ وساوس سے بچا جاسکے۔
فتاوى هندية میں ہے :
“قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته عمرة بنت حفص ولا نية له لا تطلق امرأته فإن كان صبيح زوج أم امرأته وكانت تنسب إليه وهي في حجره فقال ذلك وهو يعلم نسب امرأته أو لا يعلم طلقت امرأته ولا يصدق قضاء وفيما بينه وبين الله تعالى لا يقع إن كان يعرف نسبها وإن كان لا يعرف يقع أيضا فيما بينه وبين الله تعالى وإن نوى امرأته في هذه الوجوه طلقت امرأته في القضاء وفيما بينه وبين الله تعالى كذا في خزانة المفتين”.
(کتاب الطلاق ، الافصل الاول فی طلاق الصریح ، 1 / 358، دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
طلاق – وقوع اور عدم وقوع
2025-10-12 14:06:51
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
