شرعی سوال و جواب

بیوی کے چچا کا بلاوجہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا

بیوی کے چچا کا بلاوجہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک شادی شدہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ خوش ہے، جب کہ اس کی بیوی کا چچا یہ کہہ رہا ہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دو، کیا اس طرح کا مطالبہ کرنا شرعا جائز ہے؟ جب کہ اس شخص کی بیوی حاملہ بھی ہے۔

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص کی بیوی کے چچا کا اس سےکسی شرعی وجہ کے بغیر یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے ، شرعادرست نہیں،اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کے چچا کے مطالبہ پر عمل کرے،تاہم اگر وہ حمل کی حالت میں طلاق دے گا تو طلاق واقع ہوجائے گی۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

“قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “‌أبغض ‌الحلال إلى الله الطلاق.”

( کتاب الطلاق، باب فی طلاق السنة، ج:3، ص:505، ط:دار الرسالة العالمیة)

فتاوی شامی میں ہے :

”  وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، 

(کتاب الطلاق، ج:3، ص:228، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
طلاق دینے اور مطالبۂ طلاق پر وعیدیں
2025-09-25 23:42:16

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔