شرعی سوال و جواب

بیوی کے کینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے شوہر اپنی جسمانی خواہشات کیسے پوری کرے

بیوی کے کینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے شوہر اپنی جسمانی خواہشات کیسے پوری کرے


سوال

اگر بیوی کینسر جیسی بیماری کا شکار ہو جائے تو مرد اپنی جسمانی خواہشات کیسے پورا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں    اگربیوی کی بیماری کی وجہ سے اس سےملاپ میں طبی اعتبار سے پابندی نہیں، اور بیوی کے لیے باعث تکلیف نہ ہو تو  شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر بیماری ایسی ہو کہ بیوی سے  استمتاع ممکن نہ ہوتوپھر جہاں تک ہوسکے صبر سے کام لیا جائے، لیکن اگر صبر نہیں ہوسکتا تو سائل اپنی جسمانی  ضرورت کوپورا کرنےکےلیےدوسری شادی کرسکتاہے،تاہم   دوسری شادی کرنے کی صورت میں حکمت اورمحبت سےپہلی بیوی کوسمجھاکرراضی کیاجائےتاکہ گھرمیں اختلافات پیدانہ ہوں۔

الجامع لاحکام القرآن (تفسير القرطبي ) میں ہے:

{وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم ذلك أدنى ألا تعولوا} 

فيه أربع عشرة مسألة: الأولى- قوله تعالى:” (وإن خفتم) ” شرط، وجوابه (فانكحوا) أي إن خفتم ألا تعدلوا في مهورهن وفي النفقة عليهن (فانكحوا ما طاب لكم) أي غيرهن.”

(سورۃ النساء، رقم الآیة:3، ج:5، ص:11، ط:المکتبة العصریة)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

“وأما قوله تعالى: {مثنى وثلاث ورباع} فإنه إباحة للثنتين إن شاء وللثلاث إن شاء وللرباع إن شاء، على أنه مخير في أن يجمع في هذه الأعداد من شاء، قال: فإن خاف أن لايعدل اقتصر من الأربع على الثلاث، فإن خاف أن لايعدل اقتصر من الثلاث على الاثنتين، فإن خاف أن لايعدل بينهما اقتصر على الواحدة”.

 (2/ 69، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نکاح
نکاح کا حکم
2025-10-08 08:28:15

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔