شرعی سوال و جواب
بیٹی کا منال نام رکھنا
سوال
میں اپنی بیٹی کا نام منال رکھنا چاہ رہی ہوں ، کیا یہ نام رکھنا درست ہے یا نہیں؟ اس کا مطلب بھی بتادیجئے گا۔
جواب
مَنَال(میم اور نون کے زبر کے ساتھ) کے معنی ہیں: ایسی چیز جس کو حاصل کیا جائے۔ عطیہ، تحفہ۔ یہ نام رکھ سکتے ہیں۔
المعجم الوسیط میں ہے :
“(نال) على فلان بالشيء نولا ونوالا جاد ويقال نال فلانا العطية وبالعطية وله العطية وبالعطية أعطاه إياها وفلان بالحديث سمح به أو هم ويقال نال له أن يفعل كذا حان والشيء حصل عليه”.
(باب النون ج: 2 ص: 964 ط: دار الدعوة)
القاموس الوحید میں ہے :
” المَنَالُ: حصول” ۔
(ص:1362 ط: ادارۂ اسلامیات)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-27 13:41:52
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
