شرعی سوال و جواب

بیٹے کا نام رَمَّان یا رُمَّان رکھنا

سوال

میرے بیٹے کا نام رمان ہے(میم پر تشدید)کیا یہ نام رکھنا ٹھیک ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بیٹے کا نام رُمَّان (راء کے پیش اور میم مشدد کے ساتھ) رکھنا درست ہے۔ اس کا معنی ہے انار۔ تاہم  نام رکھنے کے بارے میں پسندیدہ ہے  کہ  انبیا ءعلیھم السلام ،حضرات صحابہ رضوان اللہ علیھم أجمعین اور اللہ کے نیک بندوں کے ناموں پراپنے نام  رکھے جائیں ۔

نیز رَمَّان (راء کے زبر اور میم مشدد کے ساتھ) نام رکھنا بھی درست ہے۔  بعض قبائل کی مشہور شخصیات کا نام رمان تھا۔

اللباب في تهذيب الأنساب  میں ہے:

“الرماني بفتح الراء والميم وفي آخرها نون – هذه النسبة إلى رمان وهو بطن من مذحج وهو رمان بن كعب بن أود بن صعب بن سعد العشيرة وإلى رمان بن معاوية بن ثعلبة بن عقبة بطن من السكون م

الرماني بضم الراء وفتح الميم المشددة وبعد الألف نون – هذه النسبة إلى الرمان   وبيعه.“

(حرف الراء، باب الراء والميم، ج2، ص36، دار صادر)

تاج العروس  میں ہے:

“(وكشداد) : رمان (بن كعب) بن أدد بن صعب بن سعد العشيرة، (في مذحج، و) رمان (بن معاوية) بن ثعلبة بن عقبة (في السكون).“

(رمن، ج35، ص113، دار الهداية)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-27 16:43:27

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔