شرعی سوال و جواب

تمہارا میرے سے رشتہ ختم سے طلاق کا حکم

سوال

کوئی بندہ اپنی منگیتر کو بولے کہ” شادی کے بعد فلاح کام کیا تو تمہارا میرے سے رشتہ ختم ہو جائے گا” اور اگر نیت یہ ہو کہ اگر یہ کام کیا تو تب طلاق دوں گا تو کیا طلاق ہو جائے گی؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر اوپر لکھی گئی بات میں شک ہو کہ پتا نہیں بولا تھا یا نہیں تب وہ کام اگر لڑکی کرے تو پھر کیا حکم آئے گا جبکہ لڑکا وہمی بھی ہو اور اسے شک ہو اور اصل ادا کیے الفاظ بھی یاد نہ ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب لڑکے نے اپنی منگیتر سے کہا کہ” تم نے شادی کے بعد فلاں کام کیاتو تمہارا میرے سے رشتہ ختم ہوجائے گا “اور نیت یہ تھی کہ  اگر یہ کام کیا توتب طلاق دوں گایعنی آئندہ مستقبل میں طلاق دینے کی نیت کی تھی فی الحال طلاق کی نیت نہیں کی تھی  تو ایسی صورت میں اگر لڑکی نے شادی کے بعد وہ کام کیا تواس پر طلاق واقع نہیں ہوگی البتہ اگر شوہر خود طلاق دے دے تو واقع ہوجائے گی۔

اگر لڑکے کو مذکورہ الفاظ بولے یا نہیں اس میں شک ہے تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال ‌لم ‌يبق ‌بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى.”

(كتاب الطلاق،الباب الثاني،الفصل الخامس في الكنايات،ج:1،ص:375،ط:رشيديه)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
طلاقِ کنایہ
2025-09-30 17:46:45

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔