شرعی سوال و جواب

جرابیں پہن کر سعی کرنا

سوال

اگر مرد سعی جرابیں پہن کر کرے  تو پھر کیا کرنا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ مردو ں کے لیے  احرام کی حالت  میں قدم کے بیچ میں ابھری ہوئی ہڈی جہاں پر عام طور پر بال اگتےہیں   اور دونوں ٹخنے  کھلا رکھنا ضروری ہے ، اگر ایک دن   یا ایک رات    ٹخنے یا قد م  کے بیچ میں ابھری ہوئی ہڈ ی کو چھپائے گا تو  دم دینا واجب ہو گا ، اس سے  کم صدقہ فطر  کی مقدار صدقہ کرنا لازم  ہو گا۔

لہذا مذکورہ مسئلہ میں  سعی جرابیں پہن کر کی  تو  صدقہ  کرنا لازم ہے۔ 

حاشیۃ ارشاد الساری میں ہے:

“(و لبس الخفين ) أي إلا أن لا يجد نعلين فانه يقطعهما أسفل من الكعبين (و الجوربين) اي لبسهما سواء كانا منعلين أو غير منعلين ( و كل ما يواري الكعب الذي عند معقد شراك النعل) أي في المفصل الذي وسط القدم لا الكعب المعتبر عند غسل الرجلين.”

(باب الحرام ، فصل فی محرمات الإحرام ص : 168 ط:المکتبة الإمدادیة)

فتاوی شامی میں ہے:

“(وخفين إلا أن لا يجد نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين) عند معقد الشراك.

(قوله: وخفين) أي للرجال فإن المرأة تلبس المخيط والخفين كما في قاضي خان قهستاني.”

(کتاب الحج، 490/2،ط: سعید)

حج  کے مسائل کے  انسائیکلوپیڈیا میں ہے :

“احرام کی حالت میں ۔۔۔اگر ایک دن ایک رات  ٹخنے یا قدم  کے بیچ میں ابھری ہوئی ہڈی  کو چھپائے گا تو دم دینا واجب ہو گا ، اور اس سے کم میں صدقہ فطر  کی مقدار صدقہ کرنا  لازم ہو گا ۔

(پیر کی ہڈی، 250/1، ط: بیت العمار )

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حج
طواف، سعی، رمی اور رمل میں ہونے والی جنایات
2025-09-27 04:05:13

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔