شرعی سوال و جواب

جھوٹے اقرار کے ساتھ نیتِ طلاق کی صورت میں حکم

جھوٹے اقرار کے ساتھ نیتِ طلاق کی صورت میں حکم


سوال

میں نے آج سے تقریباً دو سال قبل خفیہ طور پر، پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسرا نکاح کیا۔ میرے گھر والوں کو خبر نہیں تھی، لیکن لڑکی کے خاندان والے نکاح کے موقع پر موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں نکاح ہوا،اور  پہلی بیوی سے میرے تین بچے ہیں اور بیوی بھی حیات ہے۔

دو سال بعد میں نے اپنے گھر والوں اور سسرال والوں کو اطلاع دی کہ میں نے نکاح کیا ہوا ہے، اور اب رخصتی کا وقت ہے۔

یہ سنتے ہی سب حیران و پریشان ہو گئے، پہلی بیوی نے ناراضگی کا اظہار کیا اور اپنے والدین کو اطلاع دے دی، ان کے والدین (یعنی میرے سسرال) والوں نے بہت شور مچایا کہ بیوی اور تین بچوں کے ہوتے ہوئے کیوں دوسرا نکاح کیا، حالاں کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ چار شادیاں مرد کا حق ہے، شریعت نے اجازت دی ہوئی ہے۔

بہرحال، سسرال والوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کے ہوتے ہوئے کسی دوسری لڑکی کو برداشت نہیں کریں گے، اگر دوسری کرنی ہے تو پہلی کو اور بچوں کو چھوڑنا پڑے گا۔ ہم عدالت جائیں گے اور کیس کریں گے کہ بغیر اجازت دوسرا نکاح کیا، جو کہ غیر قانونی ہے (حالاں کہ شریعت میں پہلی بیوی کی اجازت ضروری نہیں ہے)، صرف یہی نہیں، بلکہ مجھ پر رعب ڈالا گیا، ڈرایا، دھمکایا گیا، حتیٰ کہ مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ سسر نے کافی بدتمیزی اور بداخلاقی کا سلوک کیا، اس دوران وہ اپنی بیٹی اور میرے بچوں کو لے گئے۔

میں نے خاندان والوں میں لڑائی جھگڑا اور فساد سے بچنے کے لیے سوچا کہ دوسرا نکاح خفیہ ہی رکھا جائے، اس میں بہتری ہے، خاندان اور سسرال والوں کی طرف سے مسلسل دباؤ، پریشر اور دھمکیوں کی وجہ سے میں نے خاندان والوں سے بطورِ جھوٹ کہا کہ میں نے دوسری بیوی کے ساتھ معاملات ختم کر دیے، طلاقیں دے دی ہیں، میں نے چھوڑ دیا (تین طلاقیں نہیں بولا)،البتہ اس جھوٹے جملے کو ادا کرتے وقت میری نیت تین طلاق کی تھی، اور پہلی بیوی سے بھی کہا کہ دوسری کو چھوڑ دیا، آئندہ کبھی اس کا ذکر تمہارے سامنے نہیں کروں گا۔

یہ تمام باتیں کہتے ہوئے میری نیت طلاق کی نہیں تھی، اور نہ ہی واقعی چھوڑنے کی نیت تھی، یہ محض وقتی طور پر سب کو خاموش کروانے اور لڑائی جھگڑا و فساد سے بچنے کے لیے الفاظ بولے۔

بہرحال، میں نے یہ الفاظ دوسری بیوی کے لیے اس لیے بولے تاکہ میرے دوسرے نکاح کی وجہ سے ہمارے خاندان میں لڑائیاں اور دشمنیاں پیدا نہ ہوں، اور خاندان میں پہلے جیسے نارمل حالات ہو جائیں، سب خوش ہو جائیں، میری خیر ہو۔

اب خاندان والوں کو میری ان تمام باتوں پر یقین نہ آیا، اور پہلی بیوی کے گھر  والوں نے کہا کہ یہ بعد میں بھی ایسے ہی سب کو پریشان کرتا رہے گا، اور انہوں نے کہا کہ یہ لکھ کر دے گا، پھر ہم اپنی بیٹی اور بچوں کو واپس بھیجیں گے۔ اس بات پر خاندان کے کچھ افراد میرے پاس آئے اور تحریر لکھ کر مجھ سے دستخط کروائے۔

تحریر ملاحظہ فرمائیں:پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسرا نکاح کیا، جس کی وجہ سے اختلافات ہوئے، میں وعدہ کرتا ہوں کہ پہلی بیوی کی زندگی میں دوسری بیوی نہیں لاؤں گا اور دوسرا نکاح ماحول بنا کر ختم کر دوں گا۔

اب یہ تمام باتیں میں نے واضح طور پر لکھ کر آپ کے سامنے رکھ دی ہیں۔ اب آپ اس بارے میں فتویٰ تحریر فرمائیں کہ کیا ان تمام صورتوں اور میرے کہے ہوئے الفاظ سے دوسرا نکاح برقرار ہے یا ختم ہو گیا؟
نوٹ: دوسری بیوی سے خلوتِ صحیح ہوچکی تھی، دونوں تنہائی میں مل چکےہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں، جب سائل نے پہلی بیوی کے خاندان والوں سے بغیر گواہوں کے بطورِ جھوٹ یہ کہا کہ:”میں نے دوسری بیوی کے ساتھ معاملات ختم کر دیے، طلاقیں دے دی ہیں، میں نے چھوڑ دیا” (“تین طلاقیں” کے الفاظ نہیں بولے)، البتہ اس جھوٹے جملے کو کہتے وقت میری  نیت تین طلاق  کی تھی،تو سائل کے اس  جھوٹے اقرارِ طلاق کے نتیجے میں دوسری بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں،لہٰذا سائل کی دوسری بیوی، سائل پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے۔اب شوہر کے لیے رجوع یا تجدیدِ نکاح شرعاً جائز نہیں ہے۔

سائل کی دوسری بیوی اپنی عدت (یعنی اگر حاملہ نہ ہو تو تین مکمل ماہ واریاں ، اور اگر حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تک) مکمل کرنے کے بعد،کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہوگی۔

حدیث شریف میں ہے:

“حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد، عن عبد الرحمن بن حبيب، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن ماهك، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة”.

(سنن أبي داود، باب في الطلاق على الهزل، ج: 2، صفحہ: 259، رقم الحدیث: 2194، ط: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

“ولوأقر بالطلاق كاذباً أوهازلاً وقع قضاءً لا ديانة”.

(کتاب الطلاق، ج: 3، صفحہ: 236، ط: سعید) 

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

“ولو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.

وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا شهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة”.

( كتاب الطلاق، ج: 3، صفحه: 264، ط: ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز،أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.”

( كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص:473، ط: دار الفكر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

“في المحيط لو قال بالعربية ‌أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.”

(کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل السابع، ج:1، ص:384، ط:دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
وقوعِ طلاق
2025-10-29 22:37:12

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔