شرعی سوال و جواب

حالت ِحمل میں طلاق کا حکم

سوال

حالتِ حمل میں طلاق دینے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

حالتِ  حمل میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،  البتہ   عدت تب ختم ہوگی جب   بچے  کی پیدائش  ہوگی۔

قرآن مجید میں ہے :

“وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ”

(سورة الطلاق )

الدر المختار میں ہے :

“(و حلّ طلاقهن) أي الآيسة و الصغيرة و الحامل.”

(کتاب الطلاق،رکن الطلاق،ج:3،ص:232،سعید)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
غصہ/حمل کی حالت میں طلاق
2025-10-17 18:56:03

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔