شرعی سوال و جواب
خاوند کے لیے بیوی کا دودھ پینا حرام ہے
سوال
کیا شوہر اپنی بیوی کا دودھ پی سکتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ شوہر کے لیے بیوی کا دودھ پینا شرعاً جائز نہیں، اگر اتفاق سے پستان چوستے ہوئے دودھ آ جائے تو تھوک دے، اور جان بوجھ کر بیوی کا دودھ پینے والا گناہ گار ہوتا ہے، ایسے شخص پر توبہ واستغفار لازم ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
“(ولم يبح الإرضاع بعد مدته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح”.
(كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:211، ط: سعيد)
وفيه أيضًا:
“مص رجل ثدي زوجته لم تحرم”.
(كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:225، ط:سعيد)
درر الحكام شرح غرر الاحكام میں ہے:
“وقال في شرح المنظومة: الإرضاع بعد مدته حرام؛ لأنه جزء الآدمي والانتفاع به بغير ضرورة حرام على الصحيح”.
(كتاب الرضاع، ما يحرم بالرضاع ج:1، ص:356، ط:دارإحياء الكتب العربية)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
حرام اشیاء
2025-10-08 14:14:13
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
