شرعی سوال و جواب

ختنہ کا حکم

سوال

مجھے بیٹے کی مسلمانی (ختنہ )کروانی ہے ؟ رہ نمائی فرمائیں

جواب

صورت مسئولہ میں ختنہ کرنا مسنون عمل ہے،  یہ شعائرِ اسلام میں سے  ہےاور فطرت میں داخل ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس عمل کے اہتمام کی بہت تاکید آئی ہے۔ عملی طریقہ کار کے متعلق کسی ماہر سرجن سے رہنمائی لے سکتے ہیں۔ 

حدیث شریف میں ہے:

“عن أبي هریرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خمس من الفطرۃ: الختان، والاستحداد، وتقلیم الأظفار، ونتف الإبط، وقص الشارب”.

 (المصنف لابن أبي شیبة،کتاب الطهارة، رقم الحدیث:۲۰۵۹،۱؍۱۹۵، ط: دارالسلفیة)

البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

“الختان سنة کما جاء في الخبر وهو من شعائر الإسلام و خصائصه، حتیٰ لو اجتمع أهل بلدٍ علیٰ ترکه، یحاربهم الإمام، فلایُترَک إلا للضرورة، و عذرُ الشیخ الذي لایطیق ذلك ظاهر، فیُترك”.

 (البحر الرائق، کتاب الخنثیٰ، مسائل شتّٰی:۹؍۳۵۹،ط:  دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
آپریشن / سرجری
2025-10-08 12:14:23

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔