شرعی سوال و جواب
دادا کے بھائی یا بہن کو زکواۃ دینا
سوال
دادا یا دادی کی بہن یا بھائی کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو جو پیسے لا علمی میں دیے ہیں اس کا کیا حکم ہوگا ؟تقریباً تین سال سے زکوٰۃ دے رہے ہیں۔
جواب
دادا یا دادی کے بھائی یا بہن اپنے اصول میں شمار نہیں اس لیے اگر وہ مالی اعتبار سے مستحق زکات ہوں کہ ا ن کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر سونا ،چاندی یانقدی یاحوائج اصلیہ سے زائد کوئی بھی مال اتنی مالیت کا نہیں ہو تو ان کو زکواۃ دینا جائز ہے،لہذاآپ نے جو زکواۃ دی ہے وہ ادا ہو گئی ہے دوبارہ نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
“ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم”.
(بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:50، ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
زکات
مستحق و غیر مستحق
2025-09-27 04:55:27
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
