شرعی سوال و جواب
رزق میں برکت کا عمل
سوال
تقریباً 2.5 سال ہو گیے نوکری چھوڑ کر د کان بنائی تھی مگر د کان اپنے اخراجات تک پورے نہیں کر رہی ہے، میں نے جگہ بھی تبدیل کر کے دیکھ لی ، جبکہ جگہ متعلقہ کاروبار کے لیے موزوں ترین ہے مگر پتا نہیں کاروبار کیوں نہیں چل رہا.
دعا کیجئے اور رہنمائی فرمائیں
جواب
فجر کی نماز کے بعد ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کریں، ان شاءاللہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہیں گے:
” اَللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ العَزِيزُ.”( الشوری: ١٩)
نیز ہر نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے درج ذیل دعا کا اہتمام کریں:
“اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ أَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ”.
نیز کثرت سے درج ذیل دعا پڑھنے کا معمول بنائیں، ان شاء اللہ پریشانیوں سے نجات نصیب ہوگی۔
“تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا.”
الفردوس بمأثور الخطاب للديلميمیں ہے:
٨٣٩٥ – أبو هريرة:
إذا أصابك سقم أو فقر فقل: ” توكلت على الحي الذي لا يموت الحمد لله لذي لم يتخذ ولدا ولم يكن له شريك في الملك ولم يكن له ولي من الذل وكبره تكبيرا.”
( باب الياء، ٥ / ٣٤٩، ط: دار الكتب العلمية بيروت )
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
علوم و فنون
مسنون دعائیں
2025-09-30 12:55:15
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
