شرعی سوال و جواب

رسول اللہ ﷺکے لیے بوڑھا ہونے کا لفظ استعمال کرنا

رسول اللہ ﷺکے لیے بوڑھا ہونے کا لفظ استعمال کرنا


سوال

رسول اللہ ﷺ کے لیے لفظ ’’بوڑھا ‘‘استعمال کرنا کیسا ہے ؟یوں کہنا کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سورہ ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کر دیا ہے ،یا یوں کہنا کہ رسول اللّٰہ ﷺ جب بوڑھے ہو گئے تو آپ کے بیس بال سفید ہو گئے یا سر کے کچھ بال سفید ہو گئے اس کے بارے میں رہنمائی فرما دیں ،شمائل ترمذی میں جو مذکور ہے۔

جواب

نبی کریم ﷺکے لیے بوڑھا ہونے کا لفظ استعمال کرنا بذات خود جائز ہے، جیسا کہ احادیث میں موجود ہے ، البتہ اگر کوئی شخص اس کے متبادل کوئی اور لفظ استعمال کرتا ہے جیسے ’’جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی‘‘یا’’جب آپ کے بالوں میں سفیدی اتری‘‘وغیرہ تو یہ بھی درست ہے۔

سنن ترمذی میں ہے:

’’عن ابن عباس قال : قال أبو بكر رضي الله عنه يا رسول الله قد شبت قال شيبتني هود والواقعة والمرسلات و { عم يتساءلون } و { إذا الشمس كورت }. ‘‘

(سنن ترمذی، ج:5،ص:402،ط:داراحیاء التراث العربی)

ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے :یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم )آپ  تو بہت جلد بوڑھے ہو گئے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں !سورت ہود، سورت واقعہ، سورت مرسلات ، عم یتساء لون اور اذالشمس کورت (اور ان جیسی دوسری سورتوں نے کہ جن میں قیامت اور اس کے احوال کا ذکر ہے) مجھ کو بڑی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی بوڑھا کر دیا ہے۔ (ترجمہ از مظاہر حق)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


ایمان و عقائد
انبیاء و رسل علیہم السلام
2025-10-17 16:39:02

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔