شرعی سوال و جواب
زینب بنت محمد نام رکھنا
سوال
میں اپنی بیٹی کا نام زینب بنت محمد رکھنا چاہتا ہوں کیا یہ نام رکھنا درست ہے؟
جواب
” زینب” کے معنی سخی اور خوشبودار کے ہیں، یہ صحابیات کے ناموں میں سے ہے، آپ ﷺ کی ایک صاحبزادی اور دو ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کا نام ” زینب” تھا ، اس لیے یہ نام اچھا ہے اور اسے رکھنا درست ہے،نیزاگرآپ کانام محمدہےتوآپ بیٹی کانام “زینب بنت محمد”رکھ سکتے ہیں،اگرآپ کانام محمدنہیں توزینب کےبعدبنت محمدکااضافہ کرنادرست نہیں ہوگا،صرف زینب نام رکھاجائے۔
صحیح مسلم میں ہے :
“عن أبي هريرة أن زينب كان اسمها برة، فقيل: تزكى نفسها. فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب”.
(كتاب الآداب، باب استحباب تغییر الاسم القبیح إلی حسن وتغيير اسم برة إلى زينب وجويرية ونحوهما ج : 6 ص : 1687 ط : دار إحياء التراث العربي بیروت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-10-17 15:53:31
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
