شرعی سوال و جواب
سالار، اوڑھن اور ہمدان نام رکھنا
سوال
مجھے اپنے بیٹے کے لیے ناموں کے معانی پوچھنے ہیں سالار ،اوڑھن ، ہمدان ان کے معانی بتادیں۔
جواب
“سالار”: اس کا معنی ہے: سردار، رہنما۔ یہ نام رکھنا جائز ہے۔
اوڑھن کا لفظ اردو،فارسی اور عربی زبان میں مستعمل نہیں ہے ،اس لیے اس کا معنی معلوم نہیں ۔
“ہمدان” ایران کے ایک شہر کا نام ہے۔ اور یمن کے ایک قبیلہ کابھی نام ہے۔ اس کی جگہ “حمدان” نام رکھا جاسکتا ہے، اس کا معنی ہے: اللہ تعالٰی کی خوب تعریف کرنے والا، اور کئی صلحاء کا بھی یہ نام رہا ہے۔
التاریخ الکبیر للبخاری میں ہے:
“محمد بن سعيد الأصبهاني، يقال له: حمدان، أبو جعفر الكوفي.”
(التاريخ الكبير للبخاري، ج:1، ص:358، ط:المتميز للطباعة والنشر والتوزيع)
القاموس الوحید میں ہے:
“ہمدان: ایران کے ایک شہرکا نام، یمن کے ایک قبیلہ کا نام۔”
(القاموس الوحید، ص:1778، ط:ادارہ اسلامیات)
فیروز اللغات میں ہے:
“سالار: سردار- افسر- رہنما-جنرل، جمع:سالاران۔”
(فیروز اللغات، ص:766)
فیروز اللغات میں ہے:
“اوڑھنا: کپڑے یا اسی قسم کی دوسری چیز کو بدن پر لینا، اپنے سر لینا، ذمے لینا۔
اوڑھنی:چھوٹا دوپٹا۔”
(فیروز اللغات، ص:137)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-11-30 22:35:37
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
